16 دسمبر 2024 - 10:35
ہم پورے عزم کے ساتھ اپنی سلامتی کا تحفظ کریں گے / جب تک ہم تھے شامی عوام معمول کی زندگی گذار رہے تھے، جنرل سلامی

سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے کمانڈر انچیف نے کہا: ہم شام کی سرزمین کے کسی حصے کو اپنی سرزمین میں شامل کرنے کے لئے اس ملک میں نہیں گئے تھے، ہم وہاں اپنے طویل مدتی مفادات اور تسلط پسندانہ اہداف کے حصول کے لئے نہيں گئے تھے ، ہم وہاں اس لئے گئے تھے کہ مسلمانوں کا وقار مجروح نہ ہونے پائے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کے مطابق، سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے کمانڈر انچیف میجر جنرل حسین سلامی نے اتوار کے روز انقلاب اسلامی اور دفاع مقدس کے میوزیم میں منعقدہ شہید جنرل قاسم سلیمانی ایوارڈ کے تیسرے دو سالہ  دور کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہ صہیونیوں کو بھاری قیمت ادا کرنا پڑے گی، انہیں شام میں دفن کر دیا جائے گا گوکہ اس پر تھوڑا وقت لکے گا۔

جنرل سلامی نے کہا: آج عالم اسلام جہاد کا میدان ہے اور مسلمانوں کی سعادت کی راہ  جہاد کے میدان سے گذرتی ہے؛ عالم اسلام کے نوجوان مجاہدین میں صہیونیوں کو شکست دینے کے لیے ضروری ایمان، ولولہ اور حوصلہ موجود ہے اور وہ یہ سب کرکے دکھائیں گے۔

سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے کمانڈر انچیف نے مزید کہا:  سب نے دیکھا کہ جب ہم شام میں تھے تو اس ملک کے لوگ  کس طرح سے زندگی گذار رہے تھے کیونکہ ہم ان کی عزت و وقار کے خواہاں تھے۔ ہم نے ان کے اثاثوں اور سرزمین کا تحفظ کیا۔

انھوں نے زور دے کہا: ہم شام کی سرزمین کے کسی حصے کو اپنی سرزمین میں شامل کرنے کے لئے اس ملک میں نہیں گئے تھے، ہم وہاں اپنے طویل مدتی مفادات اور تسلط پسندانہ اہداف کے حصول کے لئے نہيں گئے تھے ، ہم وہاں اس لئے گئے تھے کہ مسلمانوں کا وقار مجروح نہ ہونے پائے۔

جنرل سلامی نے کہا: جیسے ہی شامی حکومت گری، آپ نے دیکھا کہ اس ملک میں کیسے کیسے  افسوسناک  واقعات رونما ہو رہے ہیں۔ اور صہیونی غاصب کس انداز سے اس ملک کی اینٹ سے اینٹ بجا رہے ہیں۔

شام میں ایران کی موجودگی مسلمانوں کی عزت و عظمت کے لئے تھی

انھوں نے شام کی افسوسناک صورت حال کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: ہم اب سمجھتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ ایک فوج اور ایک مسلح فورس اگر مزاحمت اور مقابلہ نہ کرے تو اس کی سرزمین کس قدر تیزی سے ہاتھ سے نکل جاتی ہے۔ ہم م‍قاومت و مزاحمت کی قوت کا اس وقت بہتر ادراک کر سکتے ہیں کہ اگر مقاومت کے مرد استوار نہ رہیں تو ایک قوم کے اوپر کیا مصیبتیں آ ٹوٹتی ہیں، وہ سرزمین حصوں بخروں میں تقسیم ہو جاتی ہے؛ جہاں تک شام کا تعلق ہے تو ایک طرف سے صہیونی ہیں، کچھ لوگ شمال میں ہیں جو اس سرزمین پر قابض ہونا چاہتے ہیں، اور اس ملک کے عوام حیران و پریشان ہیں۔

انھوں نے کہا: آج اجنبی طاقتیں بھوکے بھیڑیوں کی طرف ایک بھوکے اور اکیلے ہرن پر ٹوٹ پڑے ہیں، اور اس کی بوٹیاں نوچ نوچ کر کھا رہے ہیں اور ہتھیا رہے ہیں۔ یہ انتہائی کڑوا سبق ہے، لیکن اس سے سیکھی جانے والی عبرت بہت عظیم ہے۔

انھوں نے مزید کہا: جب کسی ملک کا ایک قائد و رہبر ہے جو اپنے عوام کو ہر حال میں استقامت کی دعوت دے رہا ہے، اور خود بھی میدان کے وسط میں بہادری کے ساتھ کھڑا ہے، کسی طاقت کی دھمکیوں سے خوفزدہ نہ ہوتا، اپنی ملت کو استقامت اور دشمن کی جارحانہ پالیسیوں سے نمٹنے کے لئے تیار کر رہا ہے، دشمن کی جارحیتوں کے یکے بعد دیگر ناکارہ بنا رہا ہے، اور اپنی قوم کو حضرت موسیٰ بن عمران (علیہ السلام) کی طرح  نیل و قلزم سے پار کراتا ہے، تو ہمیں اس کا حقیقی انداز سے قدردان ہونا چاہئے۔ ہم ان واقعات و حوادث میں بخوبی سمجھتے ہیں کہ ہمارے پاس کتنا عظیم اثاثہ اور سرمایہ ہے۔

سپاہ پاسداران کے کمانڈر انچیف نے کہا: ہماری تاریخ ہمارا سب سے بڑا سہارا اور اثاثہ ہے۔ اور جو بھی ہمارے مقابلے پر آنا چاہے، اور کچھ پیچھے مڑ کر دیکھے تو اچھی طرح سے سمجھے گا کہ کیا مرد و زن رہتے ہیں اس سر زمین میں، جو ایک قدم بھی اپنی خودمختاری، علاقائی سالمیت، آزادی، ایمان، اسلام اور اپنے نظام سے پیچھے ہٹنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔

جنرل سلامی نے کہا: شام میں سب نے دیکھا کہ جب تک ہم تھے، وہاں کے عوام اپنی معمول کی زندگی بسر کر رہے تھے۔ ہم ان کی عزت و عظمت کے خواہاں تھے، ہم اس لئے نہیں گئے تھے کہ وہاں کی سرزمین کے کچھ حصے کو اپنی سرزمین میں ضم کر دیں، بلکہ ہم گئے تھے اس لئے کہ اس قوم کی عزت و عظمت کو تباہ نہ ہونے دیں۔

انھوں نے کہا: ہم نے دیکھا کہ شام کی حکومت کا تختہ الٹنے کے ساتھ ہی اس ملک میں کیسے کیسے ناخوشگوار واقعات رو نما ہو رہے ہیں۔ آج صہیونی جارحین [نے اتنی پیشقدمی کی ہے اور دارالحکومت کے اس قدر پہنچ گئے ہیں کہ] دمشق کے گھروں کے مکینوں کو غیر مسلح آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔ یہ قابل برداشت نہیں ہے، استقامت اور پامردی سے کام لینا چاہئے۔ جیسا کہ رہبر انقلاب امام خامنہ ای (مد ظلہ العالی) نے فرمایا: شام اللہ کے فضل سے شام کے بہادر اور میدان کی مشق کئے ہوئے نوجوانوں کے ہاتھوں آزاد ہوجائے گا۔ صہیونیوں کو بھاری قیمت ادا کرنا پڑے گی اور اسی سرزمین شام میں مدفون ہوجائیں گے؛ گوکہ اس ہدف تک پہنچنے کے لئے کچھ وقت کی ضرورت ہوگی، عزم و ارادہ اور ایمان و حوصلہ عالم اسلام کے غیور نوجوانوں میں موج زن ہے۔  

ان کا کہنا تھا کہ عالم اسلام آج جہاد کا میدان ہے، اور مسلمانوں کی خوشبختی اور کامیابی و سعادت میدان جہاد ہی سے گذر کر حاصل ہوتی ہے۔ ہم عزم و حوصلے کے ساتھ اپنی سلامتی، نظام، مفادات، تاریخ امور سرزمین کی فیصلہ کن انداز سے حفاظت کریں گے؛ ایران ایسی سرزمین نہیں ہے جس کی طرف غیر ملکی ٹیڑھی آنکھ سے دیکھ سکیں، یہ جہادی مردوں اور جہادی خواتین کی سر زمین ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110